Tuesday, 7 March 2023

زندگی کو نا مرادی سے کوئی شکوہ نہیں

زندگی کو نا مرادی سے کوئی شکوہ نہیں 

اب اگر پتھر سے ٹکراؤں تو سر پھٹتا نہیں

پی رہی ہے قطرہ قطرہ میرے خوابوں کا لہو 

میں ہوں دنیا کے لیے، میرے لیے دنیا نہیں

مٹ چکے ہیں دل سے یوں حالات کے دھندلے نقوش 

جس طرح گزرا ہوا لمحہ کبھی آتا نہیں

بھوک کھیتوں میں کھڑی ہے جیب میں مہنگائی بند 

شہر اور بازار میں گلا کہیں ملتا نہیں

اپنے پہلو میں سمیٹے ہو غم ہستی کا نور 

ایسا کوئی فلسفہ انسان کو ملتا نہیں

کوئی پیغام تمنا، کوئی پیغام عمل 

صرف کہہ دینے سے تو دنیا میں کچھ ہوتا نہیں

کوئی روئے یا ہنسے پرواز مجھ کو غم نہیں 

میں تو زندہ ہوں مِرا احساس دل زندہ نہیں

 

نصیر پرواز

No comments:

Post a Comment