صفحات

Friday, 10 March 2023

دوستوں کی بے نیازی کو ادا کا نام دو

دوستوں کی بے نیازی کو ادا کا نام دو

بے رخی حد سے جو بڑھ جائے انا کا نام دو

دل کے گُلداں میں سجاؤ تازہ زخموں کے گلاب

اور پھر، سینے کو اک باغِ وفا کا نام دو

اشک شوئی میں ہتھیلی پہ جو لگ جائے لہو

اس کو از راہِ ادب، رنگِ حنا کا نام دو

دل کے داغوں کا چمن ہر دم مہکنا چاہئے

اپنی آہوں کے دھوئیں کو تم صبا کا نام دو

اٹھ نہ جائے بزم سے پھر اعتبار دوستاں

ان کی جانب سے جفا کو بھی عطا کا نام دو

ظرف کا معیار اپنے تم کبھی گرنے نہ دو

بے وفائی بھی کرے گر وہ وفا کا نام دو

مصلحت حالات کی مجبور گر زیبا کرے

جو ڈبو دے ناؤ، اس کو نا خدا کا نام دو


مسرت جبین زیبا

No comments:

Post a Comment