صفحات

Friday, 10 March 2023

پھولوں کی خوشبو سے اٹھتی کہانی سے

 آسمان میرا حریف نہیں


پھولوں کی خوشبو سے اٹھتی کہانی سے مجھے کیا غرض

مجھے تو بس تمہاری جانب آتی سیڑھیوں کی گنتی یاد تھی

میرے سامنے حاکم شہر کے گن مت گاؤ

میں انقلابی نہیں

میرا گلہ ہمیشہ خراب رہتا ہے

اس شخص کے سامنے خدا کی باتیں مت کرو

جو ضعیفی میں تم سے روٹی مانگے

جس کا پیٹ بھرا ہو

یا اس سے جس کا محبوب بچھڑا ہو

ہجوم میں مجھ سے چیخ کر بات کرو

مجھے پکڑ کر جھنجھوڑو 

تاکہ مجھے معلوم ہو کہ میں حالت خواب میں نہیں

مجھے معلوم ہو کہ لوگ زندگی کی جانب 

ندیدوں کی طرح لپک رہے ہیں

میں نے تمہارے ساتھ آخری چائے پر 

ڈائری لکھنی چھوڑ دی

پھر جانے کتنے سال میں جوتوں کے بغیر چلا

الماری میں وہ خط کتنے سال تک میرا منتظر رہا

میں ان چیزوں کا حساب رکھنا بھول گیا ہوں

میں دریا میں تیرتا ہوں

اور دھند میں نکل جاتا ہوں

آسمان کو اپنی نظم سنانے

آسمان میرا حریف نہیں


تنویر حسین

No comments:

Post a Comment