آسمان میرا حریف نہیں
پھولوں کی خوشبو سے اٹھتی کہانی سے مجھے کیا غرض
مجھے تو بس تمہاری جانب آتی سیڑھیوں کی گنتی یاد تھی
میرے سامنے حاکم شہر کے گن مت گاؤ
میں انقلابی نہیں
میرا گلہ ہمیشہ خراب رہتا ہے
اس شخص کے سامنے خدا کی باتیں مت کرو
جو ضعیفی میں تم سے روٹی مانگے
جس کا پیٹ بھرا ہو
یا اس سے جس کا محبوب بچھڑا ہو
ہجوم میں مجھ سے چیخ کر بات کرو
مجھے پکڑ کر جھنجھوڑو
تاکہ مجھے معلوم ہو کہ میں حالت خواب میں نہیں
مجھے معلوم ہو کہ لوگ زندگی کی جانب
ندیدوں کی طرح لپک رہے ہیں
میں نے تمہارے ساتھ آخری چائے پر
ڈائری لکھنی چھوڑ دی
پھر جانے کتنے سال میں جوتوں کے بغیر چلا
الماری میں وہ خط کتنے سال تک میرا منتظر رہا
میں ان چیزوں کا حساب رکھنا بھول گیا ہوں
میں دریا میں تیرتا ہوں
اور دھند میں نکل جاتا ہوں
آسمان کو اپنی نظم سنانے
آسمان میرا حریف نہیں
تنویر حسین
No comments:
Post a Comment