صفحات

Tuesday, 7 March 2023

کہیں شعور کہیں خواب و خیال سمجھا گیا

 کہیں شعور کہیں خواب و خیال سمجھا گیا

ہمارا حال کہاں حسبِ حال سمجھا گیا

اسے تو معرکہ آرائی سے فرار سمجھ

کہ مشکلوں کو یہاں پر محال سمجھا گیا

خِرد کی آنکھ نے کھایا ہے بارہا دھوکہ

زوال آشنا کو لازوال سمجھا گیا

فصیلِ شہر میں آخر شگاف پڑنے تھے 

ہمارے نقد کو بس قیل و قال سمجھا گیا

سراب و خواب تھا جو کچھ بھی تُو نے دیکھا لطیف

ملمع سازی کو حسن و جمال سمجھا گیا


لطیف آفاقی

No comments:

Post a Comment