صفحات

Tuesday, 7 March 2023

تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں

تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں

نشاں مٹا کے یہ رستہ تلاش کرتا ہوں

عجیب آدمی ہوں ہر نئے تعلق میں

وفا کا رنگ پُرانا تلاش کرتا ہوں

میں دشتِ ہجر میں پھرتا ہوں اپنی پیاس کے ساتھ

تِرے وصال کا چشمہ تلاش کرتا ہوں

کہ تیری رہ تو نہیں ایک ایک رستے سے

میں تیرا نقشِ کفِ پا تلاش کرتا ہوں

قدم قدم پہ یہاں بے بہار برگد ہیں

میں راہِ دشت میں سایہ تلاش کرتا ہوں

میں یاد کر کے زمانہ ابھی بھی کیمپس کا

تِرے وصال کا لمحہ تلاش کرتا ہوں

وہ دکھ ملے ہیں مجھے گلستان سے ساحل

میں اپنے واسطے صحرا تلاش کرتا ہوں


ساحل سلہری

No comments:

Post a Comment