ہمارا بس نہیں چلتا کہ اب یہ کام کریں
تمہارے ساتھ محبت برائے نام کریں
تمہیں بتا رہی ہوں اب محل میں آئے تو
سلوک جیسا بھی چاہیں مِرے غلام کریں
بس ایک بار نظر آئے وہ بہار سا شخص
صدائیں پیڑ لگائیں،۔ یہ گُل کلام کریں
بدل بھی سکتے ہیں ہم اس کی کیمیائی ساخت
اگر ذرا سا اداسی پہ اور کام کریں
یہ بے ثمر سے شجر کاٹ دیں ابھی کے ابھی
یہ بے وصال رفاقت یہیں تمام کریں
بدن اتار کے رکھ آئیں جوتیوں کی جگہ
یہ بارگاہِ محبت ہے،۔ احترام کریں
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment