گلاب دیکھا تو یاد آیا
وہ شخص جس کا طواف کرتے ہماری عمریں گزر گئی ہیں
وہ جس کی آنکھوں کا ورد کرتے
وظیفہ پڑھتے
ہمیں کئی سال ہو گئے ہیں
وہ جس کے لمسِ معطرانہ کی خواہشوں میں
ہمارے جسموں میں قید روحیں سسک رہی ہیں
مگر وہ لمحۂ وصل ہم پر کبھی نہ الہام ہونے پایا
گلاب دیکھا تو یاد آیا
میثم علی آغا
No comments:
Post a Comment