صفحات

Wednesday, 8 March 2023

ہم سے وحشی کہاں اور محبت کہاں

 سرخ گلابوں کا تہوار


یہ کہاں کی روایت اٹھا لائے ہو

یہ مہذب جہانوں کے تہوار ہیں

ہم سے وحشی کہاں اور محبت کہاں؟


خوشبوؤں کی کہانی نہ ہم سے کہو

ہم ہیں بارود کی بُو سے مہکے ہوئے

ہم کہاں اور گلابوں کے موسم کہاں؟


ہم تو کلیاں مسلنے کے شوقین ہیں

از کراں تا کراں سُرخ قالین ہیں

خون ہی خون ہیں


افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment