سرخ گلابوں کا تہوار
یہ کہاں کی روایت اٹھا لائے ہو
یہ مہذب جہانوں کے تہوار ہیں
ہم سے وحشی کہاں اور محبت کہاں؟
خوشبوؤں کی کہانی نہ ہم سے کہو
ہم ہیں بارود کی بُو سے مہکے ہوئے
ہم کہاں اور گلابوں کے موسم کہاں؟
ہم تو کلیاں مسلنے کے شوقین ہیں
از کراں تا کراں سُرخ قالین ہیں
خون ہی خون ہیں
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment