جمالِ یار اور اس کا بیاں محبت ہے
حسین شام کا دلکش سماں محبت ہے
ہمیں گِلہ ہے کہ تم نے ہمیں نہیں روکا
تمہیں خبر تھی کہ آتش فشاں محبت ہے
عمل نہ ہو تو یقیں کس طرح دلاؤ گے
زباں سے کتنا بھی کہہ لو کہ ہاں محبت ہے
وہ اور لوگ ہیں جو دشمنی نبھاتے ہیں
مِرے لیے تو یہ سارا جہاں محبت ہے
ہمارے گاؤں کی برفیلی سرد صبحوں میں
سنائی دیتی ہے جو وہ اذاں محبت ہے
وفا کی آخری تمثیل، کربلا ہے دوست
سرِ حسینؑ بہ نوکِ سناں محبت ہے
بشریٰ مسعود
No comments:
Post a Comment