اس موڑ پر تمہیں دیکھا تھا میں نے
گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں
پہاڑوں کے بیچ
جھیل میں پتھر پھینکتے ہوئے
اپنے حسن سے بے نیاز
وہاں ایک پھول کھلا تھا
جہاں تم نے قدم رکھا تھا
اور کبوتر اڑے تھے
جب میں نے تمہیں سینے سے لگایا تھا
سرخ ساڑھی میں ملبوس
سبز درخت کے تلے
تم کسی گلاب کا پھول لگ رہی تھی
اور تمہارے ہاتھ میں وہ روشنی تھی
جسے میں نے اپنے ہاتھوں میں لے کر
اپنی زندگی کے آئندہ سارے سال گزار دئیے
تنویر حسین
No comments:
Post a Comment