Wednesday, 8 March 2023

اس موڑ پر تمہیں دیکھا تھا میں نے

 اس موڑ پر تمہیں دیکھا تھا میں نے

گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں

پہاڑوں کے بیچ

جھیل میں پتھر پھینکتے ہوئے

اپنے حسن سے بے نیاز

وہاں ایک پھول کھلا تھا

جہاں تم نے قدم رکھا تھا

اور کبوتر اڑے تھے 

جب میں نے تمہیں سینے سے لگایا تھا

سرخ ساڑھی میں ملبوس

سبز درخت کے تلے 

تم کسی گلاب کا پھول لگ رہی تھی

اور تمہارے ہاتھ میں وہ روشنی تھی

جسے میں نے اپنے ہاتھوں میں لے کر

اپنی زندگی کے آئندہ سارے سال گزار دئیے


تنویر حسین

No comments:

Post a Comment