میری منزل بہت دور تھی
میں نے منزل پہنچنے تلک بیٹھنا تھا
میں بیٹھا رہا
ٹرین چلتی رہی
میری منزل وہ گُل رُخ پری تھی
کہ جس تک پہنچنے کی دوری بڑی اور دشوار تھی
اور میں اس تک پہنچنے کے لمبے سفر پر تھا نکلا ہوا
ٹرین چلتی رہی
ٹرین میں ایک پژمُردگی سی تھی پھیلی ہوئی
سب مسافر سفر سے تھے اُکتا گئے
نیند میری تو اول سے اُڑ سی گئی تھی
مجھ کو اک ساتھ والے سے رشتہ بنانا پڑا
تا کہ میرا اور اُس کا تو اچھا کٹے
اک سٹیشن پہ جا کے ذرا دیر کو ٹرین رُک سی گئی
اور اُترا وہ جس سے تعلق بنا تھا
پھر کسی اور سے، اور پھر اور سے
میں تعلق بڑھاتا گیا
سب اُترتے گئے
کچھ سے اتنی محبت ہوئی تھی
کہ دل چاہتا تھا میں اُن کو ہی منزل بنا لوں
اور اُن کی ہی منزل پہ اُتروں
مگر میری منزل کوئی اور تھی
سو میں بیٹھا رہا
ٹرین چلتی رہی
ٹرین چلتی چلی جا رہی ہے
سب مسافر اُتر کر چلے جا چکے ہیں
وہ مسافر بھی جن سے محبت ہوئی تھی
وہ مسافر بھی اک آنکھ مجھ کو جو بھائے نہ تھے
میں اکیلا ہوں بیٹھا ہوا
اب کے یہ بھی پتا چل گیا ہے
وہ گُل رُخ پری میری منزل نہیں ہے
زیست کی ٹرین چلتی چلی جا رہی ہے
اور یہ تا دمِ مرگ چلتی رہے گی
ٹرین میت اُٹھائے مری جا رہی ہے
سرشار فقیرزادہ
No comments:
Post a Comment