صفحات

Tuesday, 11 April 2023

قدم رک گئے ہیں جبیں جھک گئی ہے

 عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت


قدم رک گئے ہیں، جبیں جُھک گئی ہے نہ جانے یہ کیسا مقام آ گیا ہے

نگاہوں میں باب السلام آ گیا ہے، زباں پر محمدﷺ کا نام آ گیا ہے

میں مکے سے جس دم مدینے چلا ہوں کرشمہ یہ معجز نما دیکھتا ہوں

محمدﷺ کے در پہ ادا سجدہ کرنے، میرے ساتھ بیت الحرام آ گیا ہے

کبھی گرد روضے کے میں گھومتا ہوں، کبھی روضے کی جالیاں چومتا ہوں

محمدﷺ کا دیوانہ کہتے ہیں مجھ کو، یہ دیوانہ پن میرے کام آ گیا ہے

جدھر دیکھتا ہوں ادھر ہیں چمکتے، محمدﷺ کے حسنِ منور کے جلوے

کسے تاب ہے جو کہ نظریں اٹھائے، حسینانِ گُل کا امام آ گیا ہے

کہیں انبیاءؑ بھی مؤدب کھڑے ہیں، فرشتے کہیں سر جُھکائے پڑے ہیں

مچی دُھوم ہر سُو؛ مقامِ ادب ہے کہ دربارِ خیرالانامﷺ آ گیا ہے

یہ سب کملی والے کا لطف و کرم ہے کہ چھایا ہوا ہر سُو ابرِ کرم ہے

پیو بادہ نوشو یہ پینے کا دن ہے کہ گردش میں کوثر کا جام آ گیا ہے

امیرِ خزیں جب مدینے میں پہنچا, مچی دھوم ہر سُو ہوا ہے یہ چرچا

چلو چل کے دیکھیں محمدﷺ کے در پر جو بے دام بکنے غلام آ گیا ہے


امیر بخش صابری

No comments:

Post a Comment