عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت
قدم رک گئے ہیں، جبیں جُھک گئی ہے نہ جانے یہ کیسا مقام آ گیا ہے
نگاہوں میں باب السلام آ گیا ہے، زباں پر محمدﷺ کا نام آ گیا ہے
میں مکے سے جس دم مدینے چلا ہوں کرشمہ یہ معجز نما دیکھتا ہوں
محمدﷺ کے در پہ ادا سجدہ کرنے، میرے ساتھ بیت الحرام آ گیا ہے
کبھی گرد روضے کے میں گھومتا ہوں، کبھی روضے کی جالیاں چومتا ہوں
محمدﷺ کا دیوانہ کہتے ہیں مجھ کو، یہ دیوانہ پن میرے کام آ گیا ہے
جدھر دیکھتا ہوں ادھر ہیں چمکتے، محمدﷺ کے حسنِ منور کے جلوے
کسے تاب ہے جو کہ نظریں اٹھائے، حسینانِ گُل کا امام آ گیا ہے
کہیں انبیاءؑ بھی مؤدب کھڑے ہیں، فرشتے کہیں سر جُھکائے پڑے ہیں
مچی دُھوم ہر سُو؛ مقامِ ادب ہے کہ دربارِ خیرالانامﷺ آ گیا ہے
یہ سب کملی والے کا لطف و کرم ہے کہ چھایا ہوا ہر سُو ابرِ کرم ہے
پیو بادہ نوشو یہ پینے کا دن ہے کہ گردش میں کوثر کا جام آ گیا ہے
امیرِ خزیں جب مدینے میں پہنچا, مچی دھوم ہر سُو ہوا ہے یہ چرچا
چلو چل کے دیکھیں محمدﷺ کے در پر جو بے دام بکنے غلام آ گیا ہے
امیر بخش صابری
No comments:
Post a Comment