صفحات

Tuesday, 11 April 2023

جبین عقیدت کو خم دیکھتے ہیں

 عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت


"جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں"

جبین عقیدت کو خم دیکھتے ہیں

میں لیتا ہوں نام ان کا گر مے کدے میں

مجھے کس نظر سے صنم دیکھتے ہیں

یہ گلکاریاں کب ہیں آساں قلم کی

قلم کا ہوا سر قلم دیکھتے ہیں

تِری اک نگاہِ کرم ہو تو پھر ہم

قیامت کے فتنہ کو کم دیکھتے ہیں

جنہیں تو نے دل کا غنی کر دیا ہے

وہ کب سُوئے دارا و جم دیکھتے ہیں

بگولے کہ صورت خراماں ملا ہے

تِرے نذر کو جب بھی ہم دیکھتے ہیں


نذر صابری

No comments:

Post a Comment