صفحات

Monday, 10 April 2023

سبق پڑھا کے مجھے اپنی آشنائی کا

 سبق پڑھا کے مجھے اپنی آشنائی کا

دیا ہے داغ کسی نے غمِ جدائی کا

علاج ہو نہ سکے جس سے اپنی آئی کا

خدا کی شان وہ دعویٰ کرے خدائی کا

چھپیں گے میری نگاہوں سے کیا وہ پردہ میں

کہ عالم آئینہ ہے ان کی خود نمائی کا

تِرے فقیر کے رُتبے کو شاہ کیا جانے

کُھلا ہے راز کہاں کاسۂ گدائی کا

وہ خود ہی ایک نہ اک ادھر کھنچ آئیں گے

کرے گی دل کی کشش کام رہنمائی کا

بیاں سرِ حقیقت ہے قیس کا دیواں

کچھ اس میں دخل نہیں طبع آزمائی کا


قیس آروی

ضمیرالحق

No comments:

Post a Comment