صفحات

Monday, 10 April 2023

زمیں ہر شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے

 زمیں ہر شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے

اس کی قوت سے باہر نکلنا نہیں ہے سہل

پوری قوت سے آسماں کی جانب

اچھالا گیا سنگ بھی

کچھ سمے پرواز کرنے کے بعد

پلٹتا ہے مرکز کی جانب

اس سے بھی تیز تر کہ

جتنی قوت سے ہم نے اچھالا ہوا تھا اسے آسماں کی طرف

تو کیسے میری جان میں دور تجھ سے جاؤں

میں نے خود کو ہزار ہا بار اچھالا ہے 

پھینکا ہے بہت دور تجھ سے مگر

زمیں جیسے ہر شے کو اپنی طرف کھینچتی

مجھے تُو کھینچتی ہے

میرے سب ارادے تمام تر طاقت دھری کی دھری ہے

مجھے تُو کھینچتی ہے


عاصم رشید

No comments:

Post a Comment