زمیں ہر شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے
اس کی قوت سے باہر نکلنا نہیں ہے سہل
پوری قوت سے آسماں کی جانب
اچھالا گیا سنگ بھی
کچھ سمے پرواز کرنے کے بعد
پلٹتا ہے مرکز کی جانب
اس سے بھی تیز تر کہ
جتنی قوت سے ہم نے اچھالا ہوا تھا اسے آسماں کی طرف
تو کیسے میری جان میں دور تجھ سے جاؤں
میں نے خود کو ہزار ہا بار اچھالا ہے
پھینکا ہے بہت دور تجھ سے مگر
زمیں جیسے ہر شے کو اپنی طرف کھینچتی
مجھے تُو کھینچتی ہے
میرے سب ارادے تمام تر طاقت دھری کی دھری ہے
مجھے تُو کھینچتی ہے
عاصم رشید
No comments:
Post a Comment