صفحات

Saturday, 1 April 2023

کہنے کو تو ارباب حرم جاگ رہے ہیں

 کہنے کو تو اربابِ حرم جاگ رہے ہیں

لیکن وہ تو سوئے ہیں صنم جاگ رہے ہیں

محلوں میں بھی اربابِ حشم جاگ رہے ہیں

ڈر ان کو یہ ہے اہلِ قلم جاگ رہے ہیں

افسانہ شبِ ہجر کے ماروں کا نہ پوچھو

تاروں کو بھی نیند آ گئی ہم جاگ رہے ہیں

سنتا نہیں کوئی بھی مِرا نالۂ شب گیر

کہنے کو تو اربابِ کرم جاگ رہے ہیں

حیرت سے میں یہ رنگِ جہاں دیکھ رہا ہوں

سوئے ہیں عرب، اہلِ عجم جاگ رہے ہیں

دامانِ شبِ غم دُرِ نایاب سے پُر ہے

عاشق تِرے بادیدۂ نم جاگ رہے ہیں

کیا لطف تہجد میں تجھے آئے گا آخر

صوفی تِرے سینے میں صنم جاگ رہے ہیں

نیند آئے گی کیا تختۂ گل پر تجھے فطرت

سینے میں مِرے داغِ الم جاگ رہے ہیں


فطرت بھٹکلی

محمد حسین فطرت

No comments:

Post a Comment