صفحات

Friday, 7 April 2023

درد کی دھوپ میں خوشیوں کی گھٹا تانتا ہے

 درد کی دھوپ میں خوشیوں کی گھٹا تانتا ہے 

میرے ہر دکھ کو فقط میرا خدا جانتا ہے

ضد پہ جس چیز کی اڑ جاؤں وہ مل جاتی ہے 

اک وہی ہے جو سبھی لاڈ مِرے مانتا ہے

کم نظر شہر میں رہ کر بھی مجھے رنج نہیں

یہ خوشی ہے کہ مِرا رب مجھے پہچانتا ہے

اسی خاطر تو بلائیں سھی ٹل جاتی ہیں

مجھ کو بگڑے ہوئے اپنوں میں وہ گردانتا ہے


عاصم ثقلین

No comments:

Post a Comment