چھوڑ جانے والوں پر مسکرا رہا ہوں میں
اک نئی محبت کا حظ اٹھا رہا ہوں میں
مل گئی تھی بارش میں، ایک بھیگتی لڑکی
دیدنی نظارہ تھا، دیکھتا رہا ہوں میں
کور ذوق لوگوں کو شاعری سے کیا لینا
یہ چراغ اندھوں میں بانٹتا رہا ہوں میں
تُو بھی اس حقیقت سے بے خبر رہی افسوس
تُو خبر ہے اور تیرا مبتداء رہا ہوں میں
اے چراغِ آئندہ! تُو نہیں ابھی زندہ
اور تیرے شعلوں میں جلتا جا رہا ہوں میں
یہ کوئی حقیقت ہے یا کوئی فسانہ ہے؟
زندگی کے بارے میں سوچتا رہا ہوں میں
یاور عظیم
No comments:
Post a Comment