کتنے زیادہ ہم ہیں پریشان دیکھنا
دل کا معاملہ ہے میری جان دیکھنا
اتنے زیادہ صاحبِ ایمان ہیں کہ اب
مشکل ہوا ہے صاحبِ ایمان دیکھنا
یہ وحشتیں ہمارا کوئی مشغلہ نہ تھیں
اب بن گیا ہے شوق یہ طوفان دیکھنا
دنیا کا ہو سفر یا مسافت عدم کی ہو
بھاری نہ ساتھ ہو کوئی سامان دیکھنا
تم ہی کہو کہ کیا یہ خدا کو پسند ہے
یوں آدمی کو بے سر و سامان دیکھنا
جس کے لیے بنائی تھی یہ ساری کائنات
کس حال میں ہے وہ یہاں انسان دیکھنا
یہ زندگی کے جتنے نشیب و فراز ہیں
لگتا ہے ان کو دور سے آسان دیکھنا
اس زندگی کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا
فرصت کبھی ملے میرا دیوان دیکھنا
لکھی ہے میں نے شوق سے یہ داستانِ عشق
تم اس کا کوئی اچھا سا عنوان دیکھنا
کچھ ایسا کاروبار ہے کہتے ہیں جس کو عشق
ہے کُفر اس میں نفع و نقصان دیکھنا
اسلم کسی طرح بھی یہ مردانگی نہیں
ہر زندگی کا راستہ آسان دیکھنا
اسلم گورداسپوری
No comments:
Post a Comment