صفحات

Tuesday, 2 May 2023

دوا کرتے ہیں لیکن گھاؤ بڑھتا جا رہا ہے

 دوا کرتے ہیں لیکن گھاؤ بڑھتا جا رہا ہے

ہمارے درد کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے

سمندر میں ابھی ٹھہراؤ بڑھتا جا رہا ہے

مگر ملاح لے کر ناؤ بڑھتا جا رہا ہے

مِرے سینے کے باہر برف جیسی کیفیت ہے

رگوں کے بیچ پھر بھی تاؤ بڑھتا جا رہا ہے

وفا سی قیمتی شے کس قدر ارزاں ہوئی ہے

مگر جنسِ انا کا بھاؤ بڑھتا جا رہا ہے

یہ جی میں ہے کہ عادل دشت میں آ جاؤں میں بھی

تجھے ملنے کا دل میں چاؤ بڑھتا جا رہا ہے


شہزاد عادل

No comments:

Post a Comment