صفحات

Tuesday, 2 May 2023

ٹوٹتے ٹوٹتے بنا ہوں میں

 ٹوٹتے ٹوٹتے بنا ہوں میں

دردمندوں کا قہقہہ ہوں میں

اپنے بارے میں سوچنا میرا

تیرے بارے میں سوچتا ہوں میں

ہاں تجھے بھولنا نہیں ممکن

ہاں تجھے یاد کر رہا ہوں میں

مجھ میں اب ذائقے نہیں باقی

دل کا گلشن جلا چکا ہوں میں

میں نے آنکھوں کو سچ سکھایا تھا

اور اب سچ بھگت رہا ہوں میں

زندگی کا جگر تھا میں فرحان

دستِ برہم سے شق ہوا ہوں میں


فرحان عباس بابر

No comments:

Post a Comment