دوا کرتے ہیں لیکن گھاؤ بڑھتا جا رہا ہے
ہمارے درد کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے
سمندر میں ابھی ٹھہراؤ بڑھتا جا رہا ہے
مگر ملاح لے کر ناؤ بڑھتا جا رہا ہے
مِرے سینے کے باہر برف جیسی کیفیت ہے
رگوں کے بیچ پھر بھی تاؤ بڑھتا جا رہا ہے
وفا سی قیمتی شے کس قدر ارزاں ہوئی ہے
مگر جنسِ انا کا بھاؤ بڑھتا جا رہا ہے
یہ جی میں ہے کہ عادل دشت میں آ جاؤں میں بھی
تجھے ملنے کا دل میں چاؤ بڑھتا جا رہا ہے
شہزاد عادل
No comments:
Post a Comment