صفحات

Wednesday, 3 May 2023

دن ڈھل گیا خوشی کا شب غم سوار ہے

 دن ڈھل گیا خوشی کا شبِ غم سوار ہے

میں بھی کہوں کہ دل مِرا کیوں بے قرار ہے

گل ہائے رنگا رنگ ہیں دل میں کھلے ہوئے

ہر پھول پر گماں ہے ہوا شعلہ بار ہے

سنتے ہیں ان کے ہاتھ قلم کر دئیے گئے

محنت سے جن کی دیس میں رنگِ بہار ہے

لمحہ بہ لمحہ ذہن پہ حاوی ہے اس کی سوچ

چھائی ہوئی نگاہ میں تصویرِ یار ہے

الطاف سارے وصل کے اغیار لے گئے

ہم سے کہا کہ ہجر بڑا شاندار ہے

جاں وارنے سے ان پہ کریں گے نہ ہم گریز

الفت نئی نئی ہے، جواں اعتبار ہے

احباب پر خلوص ہیں جس کے جہان میں

سردار بھی وہی ہے، وہی مالدار ہے

صبحِ ازل ملے تھے ملیں گے بروزِ حشر

ثابت ہوا کہ پیار بڑا پائیدار ہے

حاجت حکیم کی نہ کوئی چاہیے دوا

اکسیر تیرا غم ہے، اگر غمگسار ہے

احمد کرو معاف بڑائی اسی میں ہے

بدلے کا بھی اگرچہ تمہیں اختیار ہے


شکیل احمد

No comments:

Post a Comment