صفحات

Wednesday, 3 May 2023

مادہ پرست دور ہے اور شہر دوستاں

 مادہ پرست دور ہے اور شہرِ دوستاں

میں کب ہوں، کوئی اور ہے اور شہر دوستاں

پارہ مزاج آسماں،۔ آتش مزاج میں

شعلہ مزاج شور ہے اور شہر دوستاں

آواز کی طلب نہیں، تنہائی کے سبب

پھر خواہشوں کی گور ہے اور شہر دوستاں

اک عالمِ خراب کے ہمراہ چل پڑا

غوغائے چور چور ہے اور شہر دوستاں

پیہم ہوں اس کے ساتھ مگر چُھو بھی نہ سکوں

وہ لمحۂ سمور ہے اور شہر دوستاں

چائے ہے میرے سامنے اور میں کہیں ہوں اور

ہر پل لگے کٹھور ہے اور شہر دوستاں

فتنہ فساد، اشک گری چھوڑ دوں، مگر

کب خود پہ چلتا زور ہے اور شہر دوستاں


انیس احمد

No comments:

Post a Comment