صفحات

Wednesday, 3 May 2023

سمجھتے ہیں میں پورا جی رہا ہوں

 سمجھتے ہیں میں پورا جی رہا ہوں

میں اندر سے ادھورا جی رہا ہوں

سمندر کی بڑائی میرے دم سے

حقیت ہوں میں قطرہ جی رہا ہوں

میں کھارے پانیوں کی زد میں آ کر

جزیرے پر میں پیاسا جی رہا ہوں

میں اپنی کھوج میں نکلوں گا اک دن

یہ کر کے خود سے وعدہ جی رہا ہوں

یہ اکثر مجھ سے دیواروں نے پوچھا

میں کب سے بن کے سایہ جی رہا ہوں

سہارہ کھو چکا ہوں اپنا عرفی

تیرا بن کے سہارہ جی رہا ہوں


سمیع اللہ عرفی

No comments:

Post a Comment