سمجھتے ہیں میں پورا جی رہا ہوں
میں اندر سے ادھورا جی رہا ہوں
سمندر کی بڑائی میرے دم سے
حقیت ہوں میں قطرہ جی رہا ہوں
میں کھارے پانیوں کی زد میں آ کر
جزیرے پر میں پیاسا جی رہا ہوں
میں اپنی کھوج میں نکلوں گا اک دن
یہ کر کے خود سے وعدہ جی رہا ہوں
یہ اکثر مجھ سے دیواروں نے پوچھا
میں کب سے بن کے سایہ جی رہا ہوں
سہارہ کھو چکا ہوں اپنا عرفی
تیرا بن کے سہارہ جی رہا ہوں
سمیع اللہ عرفی
No comments:
Post a Comment