صفحات

Wednesday, 3 May 2023

جاں بحق لفظوں کا جنازہ

 جاں بحق لفظوں کا جنازہ


ہمارے جسم ہینگروں پر 

مع سیلز ٹیکس لٹکے ہوئے ہیں 

ہمارے سیانوں نے وراثت میں ہمیں 

نیوز اینکر دئیے ہیں 

جو ہمیں کوئی بھی خوشخبری نہ سنانے کی تنخواہ لیتے ہیں 

اور ہم روزانہ شب نو بجے 

ان کا آشیرواد لے کر 

بستروں میں دبک جاتے ہیں 

سنا ہے ہمارا جنم پورے چاند کی رات کو ہوا تھا 

جو اماوس کی طرح سیاہ تھی 

اس رات ہماری آنکھیں اسکرین پر چپکا دی گئیں 

اور زبان ریموٹ کے بٹنوں کے بیچ دبا دی گئی 

ہم لکھنا جانتے تھے 

ہم نے اپنی انگلیاں قلم بنا دیں 

اور تحریر کو زبان دے دی 

لیکن ایک شام بریکنگ نیوز سے پتا چلا 

کہ تمام لفظ اجتماعی خود کشی کر چکے ہیں 


صنوبر الطاف

No comments:

Post a Comment