جاں بحق لفظوں کا جنازہ
ہمارے جسم ہینگروں پر
مع سیلز ٹیکس لٹکے ہوئے ہیں
ہمارے سیانوں نے وراثت میں ہمیں
نیوز اینکر دئیے ہیں
جو ہمیں کوئی بھی خوشخبری نہ سنانے کی تنخواہ لیتے ہیں
اور ہم روزانہ شب نو بجے
ان کا آشیرواد لے کر
بستروں میں دبک جاتے ہیں
سنا ہے ہمارا جنم پورے چاند کی رات کو ہوا تھا
جو اماوس کی طرح سیاہ تھی
اس رات ہماری آنکھیں اسکرین پر چپکا دی گئیں
اور زبان ریموٹ کے بٹنوں کے بیچ دبا دی گئی
ہم لکھنا جانتے تھے
ہم نے اپنی انگلیاں قلم بنا دیں
اور تحریر کو زبان دے دی
لیکن ایک شام بریکنگ نیوز سے پتا چلا
کہ تمام لفظ اجتماعی خود کشی کر چکے ہیں
صنوبر الطاف
No comments:
Post a Comment