Wednesday, 3 May 2023

مست نظروں سے پلاؤ تو کوئی بات بنے

 مست نظروں سے پلاؤ تو کوئی بات بنے

آگ سینے میں لگاؤ تو کوئی بات بنے

ایک دو جام سے برسات میں کیا بنتا ہے

آج مے خانہ لٹاؤ تو کوئی بات بنے

نشہ ہے ایک طرف رنگ کہو خاک جمے

خود پیو، اور پلاؤ تو کوئی بات بنے

حُسن پردے میں رہے اور ہو جادو ہم پر

ہاں ذرا سامنے آؤ تو کوئی بات بنے

روٹھ کر روٹھے ہی رہنا تو کوئی بات نہیں

روٹھ کر مان بھی جاؤ تو کوئی بات بنے

رنگ پھیکا نظر آیا تو کہا محفل میں

جاؤ طالب کو بلاؤ تو کوئی بات بنے


طالب شملوی

No comments:

Post a Comment