مست نظروں سے پلاؤ تو کوئی بات بنے
آگ سینے میں لگاؤ تو کوئی بات بنے
ایک دو جام سے برسات میں کیا بنتا ہے
آج مے خانہ لٹاؤ تو کوئی بات بنے
نشہ ہے ایک طرف رنگ کہو خاک جمے
خود پیو، اور پلاؤ تو کوئی بات بنے
حُسن پردے میں رہے اور ہو جادو ہم پر
ہاں ذرا سامنے آؤ تو کوئی بات بنے
روٹھ کر روٹھے ہی رہنا تو کوئی بات نہیں
روٹھ کر مان بھی جاؤ تو کوئی بات بنے
رنگ پھیکا نظر آیا تو کہا محفل میں
جاؤ طالب کو بلاؤ تو کوئی بات بنے
طالب شملوی
No comments:
Post a Comment