صفحات

Tuesday, 2 May 2023

انسان کو ڈھونڈو گے تو انسان ملے گا

 انسان کو ڈھونڈو گے تو انسان ملے گا

ورنہ یہاں ہر موڑ پہ حیوان ملے گا

پتھر کو اگر وصف کا ایوان ملے گا

ممکن ہے کہ خود ساختہ بھگوان ملے گا

بہتر ہے کہ یہ پھول کسی قبر پہ رکھ دو

بوسیدہ مکاں میں کہاں گلدان ملے گا

جس غار میں وحدت کی تجلی ہے وہاں جا

بستی میں کہاں صاحبِ عرفان ملے گا

جنت کی کسی کو بھی تمنا نہیں ہو گی

دنیا میں اگر عیش کا سامان ملے گا

تابش میں یہی سوچ کے رہتا ہوں پریشاں

ہر شخص یہاں مجھ کو پریشان ملے گا


تابش رامپوری

No comments:

Post a Comment