صفحات

Tuesday, 2 May 2023

یہ تماشے جو تخت و تاج کے ہیں

 یہ تماشے جو تخت و تاج کے ہیں

شاخسانے یہ سب اناج کے ہیں

جن اصولوں کی پرورش کی تھی

وہ طلبگار اب خراج کے ہیں

خود سری، خودستائی، خودبینی

یہ رسوم و رواج آج کے ہیں

آپ کو صرف یہ بتانا تھا

ہم ذرا دوسرے مزاج کے ہیں

بے سبب تو نہیں ہیں ہم خاموش

یہ طریقے تو احتجاج کے ہیں

آپ مت کیجیے مسیحائی

کب طلبگار ہم علاج کے ہیں

ہم بھی اپنی ہی فکر کرتے ہیں

ہم بھی مارے ہوئے رواج کے ہیں

آپ کے دل میں ولولے اپنے

منتظر کب سے اندراج کے ہیں

آپ کے در پہ کیا کریں آ کر

جب کسی کام کے نہ کاج کے ہیں

لوگ پیدا نہیں ادھورے ہوئے

یہ تو کھائے ہوئے سماج کے ہیں

شعر آصف کے شاہکار عجب

فکر اور فن کے امتزاج کے ہیں


آصف اکبر جیلانی

No comments:

Post a Comment