صفحات

Saturday, 13 May 2023

اسے میں نے رخصت کیا ہی نہیں

  اُسے میں نے رخصت کیا ہی نہیں

گیا ہے وہ دل سے، گیا ہی نہیں

میرے داغ دل اتنے روشن ہوئے

میرے گھر میں کوئی دیا ہی نہیں

سر آنکھوں پر میں نے بٹھایا اسے

وہ نظروں سے میری گرا ہی نہیں

نہ حسرت، نہ چاہت، نہ ارماں کوئی

میرے دل میں اب کچھ بچا ہی نہیں

میں انساں کو ڈھونڈا کیا جا بجا

کہیں بھی وہ مجھ کو ملا ہی نہیں

مسافر تھا میں بھی اسی راہ کا

مجھے ساتھ اس نے لیا ہی نہیں

وہ آئیں میرے دل میں ٹھہریں، رہیں

مگر ایسا کچھ بھی ہوا ہی نہیں

سنائوں کسے بزمی احوال دل

کوئی اپنا مجھ کو ملا ہی نہیں


شبیر بزمی

No comments:

Post a Comment