صفحات

Saturday, 13 May 2023

جہان دل میں اک عجب خمار رکھنا پڑا

 جہانِ دل میں اک عجب خمار رکھنا پڑا

نفیس ہوتے ہوئے بھی غبار رکھنا پڑا

وگرنہ، کوئی تعلق نہ تھا بلندی سے

بس اک وقار کی خاطر اُبھار رکھنا پڑا

تعلقات کہاں دائروں سے چلتے ہیں

مجھ ایسے فرد کو لیکن حصار رکھنا پڑا

خلافِ سنتِ آدم کوئی گیا ہے بھلا

سبھی کو پہلا قدم اشکبار رکھنا پڑا

کچھ اپنی سمت کے بارے بھی غور کرنا تھا

درونِ ذات مجھے اک مدار رکھنا پڑا

یہ کس نے تذکرہ چھیڑا سیاہ راتوں کا

سو روشنی کو وہیں پر نکھار رکھنا پڑا


حسین فرید

No comments:

Post a Comment