صفحات

Saturday, 13 May 2023

آنکھوں سے جب یہ خواب سنہرے اتر گئے

آنکھوں سے جب یہ خواب سنہرے اتر گئے

ہم دل میں اپنے اور بھی گہرے اتر گئے

سانپوں نے من کی بین کو کاٹا ہے اس طرح

تھے اس کے پاس جتنے بھی لہرے اتر گئے

لائے ہیں وہ ہی آگ کے موتی بٹور کر

جو آنسوؤں کی برف میں گہرے اتر گئے

پہرے پہ سب ہی چور ہیں یہ تب پتا چلا

آنکھوں سے جب یہ نیند کے پہرے اتر گئے

ہم جب تٹوں کے پاس رہے ڈوبتے رہے

جب جب بھنور کے بیچ میں ٹھہرے اتر گئے

نعروں کی سیڑھیوں کو لگا کر چڑھے جو لوگ

ہو کر انہیں کی چوٹ سے بہرے اتر گئے

جس دن سے میرے دل میں کنور بس گئے ہیں آپ

دنیا کے مجھ پہ جتنے تھے پہرے اتر گئے


کنور بے چین 

No comments:

Post a Comment