صفحات

Saturday, 13 May 2023

زہر لگتا ہے جسے کہتے ہیں آب زندگی

 زہر لگتا ہے جسے کہتے ہیں آبِ زندگی

کہنہ ہے پھر بد مزا کیوں ہے شرابِ زندگی

درد کی گہرائیاں ہیں قہقہوں کی اوٹ میں

خواب کی صورت مسلط ہے سرابِ زندگی

زندگی جب روز ہی لیتی رہی ہم سے حساب

حشر میں پھر کس لیے دیں گے حسابِ زندگی

بیشتر متروک الفاظ اور سطریں بے محل

کتنا مشکل ہو گیا ہم پر نصابِ زندگی

کس قدر تکلیف دیتا ہے یہ سانسوں کا سفر

موت سے کچھ کم نہیں ہے اضطرابِ زندگی

ہر ورق پر بے رخی، بے چارگی اور بے بسی

میر کے نشتر ہوں یا اپنی کتابِ زندگی


مزمل بانڈے

No comments:

Post a Comment