صفحات

Thursday, 11 May 2023

عشق میں اضطراب رہتا ہے

 عشق میں اضطراب رہتا ہے

جی نہایت خراب رہتا ہے

خواب سا کچھ خیال ہے لیکن

جان پر اک عذاب رہتا ہے

تشنگی جی کی بڑھتی جاتی ہے

سامنے اک سراب رہتا ہے

مرحمت کا تری شمار نہیں

درد بھی بے حساب رہتا ہے


مسعود حسین

No comments:

Post a Comment