چهوڑ پردیس کو گهر چلتے ہیں
اپنے پیاروں کے نگر چلتے ہیں
بجتی ہو امن کی شہنائی جہاں
چل مِرے دوست ادهر چلتے ہیں
گر ندامت ہے تو پهر ان کے حضور
ہو کے با دیدۂ تر چلتے ہیں
سانس چلتی ہے مگر ہوش نہیں
نیند میں جیسے بشر چلتے ہیں
دهوپ چهاؤں کی پہیلی کیا ہے
کس لیے شمس و قمر چلتے ہیں
اے اجل! ٹهہر ذرا ان کو بهی
دیکھ لیں ایک نظر، چلتے ہیں
گو کہ ہم آبلہ پا ہیں احمد
تُو چلے ساتھ اگر چلتے ہیں
احمد جہانگیر داجلی
No comments:
Post a Comment