زخم ہیں کچھ جو فقط تم کو دکھانے والے
پر تِرے پاس بھی مرہم ہیں زمانے والے
میں تِرے صدقے مِرے دل کو دُکھانے والے
عیش کے دن تھے یہی جشن منانے والے
نیکی نے تیری اذیت ہی بڑھا دی میری
بد دعا تجھ کو مِری جان بچانے والے
کون کرتا ہے ہوں احسان کسی پر کوئی
چوم لوں ہاتھ تِرے زہر پلانے والے
یوں محبت میں مُکرنا، یوں جدا ہو جانا
تیرا مشکور ہوں یہ سب کچھ سکھانے والے
زبیر قلزم
No comments:
Post a Comment