صفحات

Thursday, 4 May 2023

خزاں برنگ بہاراں ہے دیکھیے کیا ہو

 خزاں برنگ بہاراں ہے دیکھیے کیا ہو

سکوں کے بھیس میں طوفاں ہے دیکھیے کیا ہو

الٰہی! خیر ہو حالات ہی دگرگوں ہیں

کبھی جو کفر تھا ایماں ہے دیکھیے کیا ہو

رواں دواں تھے جو لمحات رک گئے یکدم

سکوت شام غریباں ہے دیکھیے کیا ہو

کہاں گئے وہ نشیب و فراز یاس و امید

سپاٹ سا دل ویراں ہے دیکھیے کیا ہو

جنون حسن حد لا شعور تک پہنچا

شعور سر بہ گریباں ہے دیکھیے کیا ہو

ابھی تو اس کا نشاں تک ملا نہیں طالب

تلاش عظمت انساں ہے دیکھیے کیا ہو


طالب چکوالی

منوہر لال کپور

No comments:

Post a Comment