صفحات

Friday, 5 May 2023

دل کے آئینے میں جو بھی تصویر تھی

 دل کے آئینے میں جو بھی تصویر تھی مؤقلم کا مصور کے تھا بانکپن

آنکھ کی پُتلیوں میں تھرکتے ہوئے نوجواں لڑکیوں کے سُنہرے بدن

کوئی دوشیزہ تھی بال کھولے ہوئے ساحلِ بحر پر چاندی رات میں

جیسے کُہرے کی چادر میں لِپٹی ہوئی کسمساتی ہوئی چاندنی کی کِرن

خواہِشوں کے جزیروں میں بھٹکے ہوئے جس قدر جِسم تھے وہ ہم آغوش تھے

اپنے عشرت کدوں کی جواں رات میں قُرب کے بیکراں نشے میں تھے مگن

سُرخ جوڑوں میں لِپٹی ہوئی لڑکیاں جن کے چہروں پہ تھی ایک وحشت عیاں

اس لیے کیونکہ ان کے مجازی خدا باندھ کر چل دئیے تھے سروں سے کفن

اِک سُلگتی ہوئی شمع کے قُرب میں کچھ پتنگے جلے تھے جہاں راکھ تھی

راکھ کیا تھی سُلگتی ہوئی آگ تھی پھونک کر رکھ دئیے مخملیِں پیرہن

شِدتِ جذبِ الفت سے خاموش تھے کِتنے تھے بِن پیۓ ہی جو مدہوش تھے

روشنی کے سمندر میں ڈُوبے ہوئے خوشبوؤں میں نہائے ہوئے مرد و زن


محمد عارف

No comments:

Post a Comment