عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ورق ورق پہ ہے گل رنگ ساعتوں کا ہجوم
ہر ایک لفظ میں شامل ہے دھڑکنوں کا ہجوم
ازل سے تاجِ مدینہ کی میں رعایا ہوں
اسی لیے مِرے سر پر ہے شفقتوں کا ہجوم
صبا سے، راستہ طیبہ کا، پوچھنے والو
رواں مدینے کی جانب ہے جگنوؤں کا ہجوم
درودِ پاکﷺ کنیزوں کے لب پہ کیا آیا
اُمڈ پڑا مِرے آنگن میں تتلیوں کا ہجوم
خنک ہواؤں کے جُھرمٹ میں ہو گا آسودہ
بروزِ حشر پیمبرﷺ کے شاعروں کا ہجوم
جوارِ گنبدِ خضرا کے سبزہ زاروں پر
عطائے لطف و کرم میں ہے سائلوں کا ہجوم
حضورﷺ، آج بھی تنہا ہوں میں سرِ مقتل
چھپا لے آج بھی دامن میں رحمتوں کا ہجوم
دہائی دیتا ہے رو رو کے آپﷺ کی، آقاؐ
عجم کے قریۂ زر میں گداگروں کا ہجوم
قلم کا کب سے تعاقب زمیں پہ جاری ہے
کھڑا ہے مکتبِ شب میں جہالتوں کا ہجوم
فریب و دجل کے داعی نے قفل ڈالے ہیں
حضورؐ، جائے گا کس سمت بے گھروں کا ہجوم
ہدف ہوں اہلِ ہوس کی میں نفرتوں کا ابھی
یقیں ہے مجھ کو ملے گا محبتوں کا ہجوم
یہ کس قدر بڑا اعزاز ہے سرِ محشر
حضورؐ، آپؐ کو ڈھونڈے پیمبروں کا ہجوم
گلابِ نعت میں تقسیم کر رہا ہوں، ریاض
بیان و نطق میں رہتا ہے خوشبوؤں کا ہجوم
ریاض حسین چودھری
No comments:
Post a Comment