بہت رنگین دلکش ہے مجازی پیار کی دنیا
ابھرنے ہی نہیں دیتی لب و رخسار کی دنیا
زمانہ سے جدا کر دے حقیقت کو فنا کر دے
فقط خوابوں میں لے جائے حسیں دلدار کی دنیا
یہاں جُھوٹوں کا میلہ ہے جو بولے سچ اکیلا ہے
یقیں گر ہے نہیں دیکھو ذرا اخبار کی دنیا
غریبوں کو ستاتی ہے امیروں کو بناتی ہے
لڑا کر صرف انساں کو چلے سرکار کی دنیا
طلب سورج کی مت کرنا نہ دامن آگ سے بھرنا
چراغوں سے منور تم کرو گھر بار کی دنیا
ضرورت ڈھونڈ لیتی ہے کہ رستہ مل ہی جاتا ہے
کرے آدم اگر کوشش کُھلے اسرار کی دنیا
صابر عثمانی
No comments:
Post a Comment