صفحات

Wednesday, 5 July 2023

اک چادر بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں

 اک چادر بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں

اور دولتِ دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں

آنکھوں کو ٹکاتا ہوں ہنگامۂ دنیا پر

اور کان سخن ہائے خاموش پہ رکھتا ہوں

کیفیت بے خبری کیا چیز ہے کیا جانوں

بنیاد ہی ہونے کی جب ہوش پہ رکھتا ہوں

میں کون ہوں، ازلوں کی حیرانیاں کیا بولیں

اک قرض ہمیشہ کا میں گوش پہ رکھتا ہوں

جو قرض کی مے پی کر تسخیرِ سخن کر لے

ایماں اسی دلی کے مٔےنوش پہ رکھتا ہوں


آفتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment