صفحات

Wednesday, 5 July 2023

وہ کون ہے جو تمہارا سراغ پا نہ سکا

 وہ کون ہے جو تمہارا سُراغ پا نہ سکا

کہ میں تو اپنے ہی صحرا کے پار جا نہ سکا

وہ اپنا معنوی چہرہ مجھے دِکھا نہ سکا

اس آئینے سے کوئی بھی نظر ملا نہ سکا

یہ ٹھنڈی آگ جُدا ہے بدن کے شعلے سے

بدن کا شعلہ مِری رُوح کو جلا نہ سکا

کسی کی بات تھی جو اس نے ڈال دی مجھ پر

وہ آج خود تو ہنسا، پر مجھے ہنسا نہ سکا

اسی لیے تو اُجالا ہے میرے سینے میں

میں بھول کر بھی کسی کا دِیا بُجھا نہ سکا

کچھ اتنے ہاتھ بڑھے تھے مجھے گِرانے کو

کہ ڈگمگانا بھی چاہا تو ڈگمگا نہ سکا

وہ پیرہن ہوں میں اپنے برہنہ جوئی کا

جو کوئی زخم تِری آنکھ سے چھپا نہ سکا

جو لوحِ دل ہوئی ٹکڑے تو یہ خیال آیا

کہ میں بھی سنگ اٹھاؤں، مگر اٹھا نہ سکا

شکیب! رُوح میں طوفاں کا شور باقی ہے

میں اپنا درد، کسی ساز پر سُنا نہ سکا


شکیب جلالی

No comments:

Post a Comment