صفحات

Monday, 3 July 2023

مسیحا ہم اسی لمحے تمہارے غم سے نکلیں گے

 مسیحا ہم اسی لمحے تمہارے غم سے نکلیں گے

ہمارے زخم جونہی خواہشِ مرہم سے نکلیں گے

کسی دن ہم نکل جائیں گے بے محور خلاؤں میں

کسی دن ہم زمیں کی گردشِ پیہم سے نکلیں گے

عجب کیا ہے مسیحا کی سماعت کو لہو کر دیں

وہ کچھ نغمے جو دل کے درد کی سرگم سے نکلیں گے

کروں گا زیبِ تن کب تک عدوئے جان کی اُترن

اور اس کے پیرہن کب تک مِرے پرچم سے نکلیں گے

ابھی تو ہم کسی کی بزمِ نازِ دل سے نکلے ہیں

کسی دن ہم کسی کے دیدۂ پُرنم سے نکلیں گے

رہے گا یوں اگر سلطان تلواروں کے سائے میں

ہمارے شہر کیسے خوف کے عالم سے نکلیں گے

جنوں کے غم کے اس انبار میں شامل تو ہونے دو

ہزاروں قہقہے عادل صفِ ماتم سے نکلیں گے


شہزاد عادل

No comments:

Post a Comment