صفحات

Monday, 3 July 2023

وابستہ ہیں ہزاروں الم ہر خوشی کے ساتھ

 وابستہ ہیں ہزاروں الم ہر خوشی کے ساتھ

ایک کھیل ہو رہا ہے مِری زندگی کے ساتھ

ان کی ادائے ناز پہ قربان جائیے

کرتے ہیں قتلِ عام مگر سادگی کے ساتھ

میں نے تو بند کر دیا الفت کا کاروبار

اب کون چھیڑتا ہے مجھے دل لگی کے ساتھ

ذوقِ طلب نے مجھ کو کہاں لا کے رکھ دیا

میں خود کو ڈھونڈتا ہوں بڑی بے بسی کے ساتھ

گلشن پرست آج بھی ہیں انتظار میں

کب آئے گی بہار نئی تازگی کے ساتھ

سب ہیں غم معاش کے مارے ہوئے مجید

میں جی رہا ہوں اب بھی غم عاشقی کے ساتھ


عبدالمجید خان

No comments:

Post a Comment