صفحات

Saturday, 1 July 2023

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جو دلگیروں کا گیت بنے

 کوئی ایسا شبد لکھے کوئی

جو دلگیروں کا گیت بنے

کوئی لفظ تحمّل والا ہو

کوئی بات کہ جیسے ماں بولے

جسے سن کر زخم بھریں دل کے

جسے چُھو کے رنج نہ ہو کوئی

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی

جو ٹھنڈک ہو، آزار نہ ہو

جو جیون بھر کا عِطر بنے

جو رستہ ہو دیوار نہ ہو

کوئی کافی شاہ عنایتؒ سی

کوئی رمز بِھٹائیؒ چاہت سی

کوئی ہُوک سچل سرمستؒ بھری

جس لفظ کی گدڑی کے اندر

انسان کی اک پہچان بھی ہو

جو پورب پچھم سے آگے

بغداد بھی ہو ملتان بھی ہو

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی

جسے پڑھ کر اک حیرانی ہو

جسے کھول کے دیکھیں تو اس میں

ہر مشکل کی آسانی ہو

جو طنز نہ ہو تحقیر نہ ہو

کوئی ہو جو ایسا شبد لکھے

وہ چاہے سنت، فقیر نہ ہو

بھلے ناسخ غالب میر نہ ہو

پر ہو تو سہی کوئی ایسا

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی

جو دلگیروں کا گیت بنے

جو انسانوں کا مِیت بنے


علی زریون

No comments:

Post a Comment